وضو صرف جسم کو پانی سے دھونے کا نام نہیں ہے۔ یہ اپنے پورے وجود کے ساتھ انسان کے جسم اور روح کو پاک صاف کر کے، اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے کی تیاری کا ایک مقدس عمل ہے۔ اسلام میں وضو کو نماز کی قبولیت کے لیے سب سے بنیادی شرط (فرض) قرار دیا گیا ہے۔
وضو کے فرائض (وہ اعمال جن کے بغیر وضو نہیں ہوتا)
فقہ حنفی کے مطابق، وضو کے دوران درج ذیل 4 اعمال کا پورا ہونا فرض ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی چھوٹ جائے یا خشک رہ جائے، تو وضو درست نہیں مانا جاتا:
- پورا چہرہ دھونا: پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک، اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک پورا چہرہ اچھی طرح دھونا۔
- دونوں ہاتھ دھونا: دونوں ہاتھوں کو انگلیوں کے پوروں سے شروع کر کے کہنیوں سمیت (کہنیوں کو شامل کرتے ہوئے) اچھی طرح دھونا۔
- سر کا مسح کرنا: اپنے ہاتھوں کو پانی سے تر کر کے سر کے چوتھائی (1/4) حصے پر چوٹی کی طرف ہاتھ پھیرنا۔
- دونوں پاؤں دھونا: دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت (ٹخنوں کو شامل کرتے ہوئے) اچھی طرح دھونا۔
وضو کی سنتیں (نبی کریم ﷺ کا پسندیدہ طریقہ)
وضو کا پورا ثواب حاصل کرنے اور اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے لیے، ہمارے پیارے نبی ﷺ کی درج ذیل سنتوں پر عمل کرنا مستحب ہے:
- نیت اور بسم اللہ: دل میں وضو کرنے کی نیت کرنا اور "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھ کر آغاز کرنا۔
- ہاتھوں کو کلائیوں تک دھونا: وضو کے شروع میں دونوں ہاتھوں کو کلائیوں تک 3 مرتبہ اچھی طرح دھونا اور انگلیوں کا خلال کرنا۔
- مسواک کرنا یا کلی کرنا: اپنے دائیں ہاتھ سے منہ میں 3 مرتبہ پانی ڈال کر اچھی طرح کلی کرنا (اور اگر مسواک میسر ہو تو مسواک کرنا)۔
- ناک میں پانی ڈالنا (استنشاق): دائیں ہاتھ سے ناک میں 3 مرتبہ پانی چڑھانا اور بائیں ہاتھ سے ناک کو صاف کرنا۔
- ہر عضو کو تین بار دھونا: چہرہ، ہاتھ اور پاؤں کو تین تین بار دھونا سنت ہے۔
- کانوں اور گردن کا مسح: ہاتھوں کی انگلیوں سے کانوں کے اندر اور باہر کا مسح کرنا، اور ہاتھوں کی پشت سے گردن کا مسح کرنا۔
وضو توڑنے والی چیزیں (نواقضِ وضو)
درج ذیل حالات پیش آنے پر آپ کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوتا ہے:
- جسم کے قدرتی راستوں سے کسی بھی چیز (پیشاب، پاخانہ یا ہوا) کا خارج ہونا۔
- جسم کے کسی بھی حصے سے خون، پیپ یا زرد پانی کا نکل کر بہہ جانا۔
- منہ بھر کر قے (vomit) آنا۔
- لیٹ کر، چت ہو کر یا کسی چیز کا سہارا لے کر گہری نیند سو جانا۔
- بے ہوشی، غشی یا عقل پر عارضی طور پر پردہ پڑ جانا۔