روزے کا اصل مقصد انسان میں نفس پر قابو پانے اور تقویٰ کی صفت کو بیدار کرنا ہے۔ اگرچہ بنیادی اصول بالکل واضح ہے — یعنی صبحِ صادق (سحری کا آخری وقت) سے لے کر غروبِ آفتاب (افطار) تک جان بوجھ کر کھانے، پینے اور ازدواجی تعلقات سے دور رہنا — لیکن روزمرہ کی زندگی میں پیش آنے والے بعض مسائل مسلمانوں کے ذھن میں شکوک و شبہات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان شرعی احکام کو واضح طور پر جاننا آپ کو اطمینان کے ساتھ روزہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا
بہت سے مسلمان روزمرہ کی چھوٹی موٹی چیزوں یا عام طبی و صفائی کے امور کی وجہ سے بلاوجہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ درج ذیل کاموں سے آپ کا روزہ نہیں ٹوٹتا:
- بھولے سے کھانا یا پینا: اگر روزہ دار کو بالکل یاد نہ رہے اور وہ بھول کر کچھ کھا پی لے، تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تاہم، جیسے ہی روزہ یاد آئے، اسی وقت کھانے پینے کو فوراً روک دینا اور منہ کو صاف کر لینا شرعی طور پر ضروری ہے۔
- خون کا ٹیسٹ (بلڈ سیمپل): طبی معائنے یا لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے سرنج کے ذریعے جسم سے خون نکلوانے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
- دانتوں کی صفائی (مسواک یا ٹوتھ پیسٹ): مسواک کا استعمال ہر وقت جائز ہے۔ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال بھی اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اس کا کوئی حصہ یا ذائقہ حلق سے نیچے نہ اترے۔ کسی بھی قسم کے خطرے سے بچنے کے لیے علماء سحری کے وقت ہی پیسٹ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
- غسل کرنا یا شاور لینا: گرمی کی شدت کو کم کرنے یا تازگی حاصل کرنے کے لیے نہانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بس اس بات کا خیال رکھیں کہ ناک یا منہ کے ذریعے پانی حلق میں نہ جائے۔
- دمہ کے مریضوں کے لیے انیلر (Inhaler) کا استعمال: جدید فقہی فتاویٰ کے مطابق، دمہ کے مریضوں کے لیے شدید ضرورت کے وقت انیلر کا استعمال جائز ہے کیونکہ یہ گیس نما دوا معدے میں جانے کے بجائے براہِ راست پھیپھڑوں (سانس کی نالی) میں جاتی ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
درج ذیل اعمال روزے کو باطل کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے قضا (روزے کی تلافی) یا مخصوص حالات میں کفارہ ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے:
- جان بوجھ کر کھانا یا پینا: روزہ یاد ہونے کے باوجود قصداً کوئی بھی غذا، پانی، چائے یا دوا حلق سے نیچے اتارنا۔
- غذائی انجیکشن یا ڈرپ (گلوکوز کی بوتل): جسم کو طاقت دینے والے، وٹامنز سے بھرپور یا بھوک اور پیاس کا احساس ختم کرنے والے غذائی ڈرپس یا ٹیکے لگوانا۔
- سگریٹ یا شیشہ نوشی: سگریٹ، ای-سگریٹ (vape) یا شیشے کا دھواں جان بوجھ کر اندر کھینچنا روزے کو اسی وقت توڑ دیتا ہے۔
- جان بوجھ کر قے (Vomit) کرنا: اپنے آپ کو مجبور کر کے قصداً منہ بھر کر الٹی کرنا۔ (اگر خود بخود الٹی آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا)۔