زکوٰۃ اسلام کا تیسرا بنیادی ستون ہے اور یہ صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر اپنے مال کا ایک مخصوص حصہ ضرورت مندوں کو دینا فرض کرتا ہے۔ لفظ "زکوٰۃ" کے لغوی معنی "پاک ہونا" اور "بڑھنا یا برکت پانا" کے ہیں۔ یہ انسان کے دل کو بخل اور لالچ سے پاک کرتی ہے اور معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتی ہے۔
زکوٰۃ کس پر فرض ہوتی ہے؟ (نصابِ زکوٰۃ)
زکوٰۃ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو عاقل، بالغ ہو اور اس کے پاس اس کی بنیادی ضرورتوں اور واجب الادا قرضوں کو منہا کرنے کے بعد مال "نصاب" کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، اور اس مال پر ایک ہجری سال گزر چکا ہو۔
- نصاب کی شرعی حد: اسلامی شریعت کے مطابق زکوٰۃ کا نصاب **85 گرام خالص سونا** یا **595 گرام خالص چاندی** یا اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے برابر نقدی یا مالِ تجارت ہے۔
- قرضوں کی منہائی: زکوٰۃ کا حساب لگانے سے پہلے اپنے ذمے موجود تمام فوری واجب الادا قرضوں کو اپنے کل مال میں سے منہا کرنا ضروری ہے۔
زکوٰۃ کا حساب لگانے کا طریقہ
زکوٰۃ کی واجب الادا مقدار آپ کے کل قابلِ زکوٰۃ مال (قرضے نکالنے کے بعد) کا **2.5%** (یعنی چالیسواں حصہ) ہوتی ہے۔ اس مال میں نقدی، سونا، چاندی، بانڈز، شیئرز اور تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہر سامان شامل ہے۔
بنیادی فارمولا:
زکوٰۃ کے 8 شرعی حقدار (مصارفِ زکوٰۃ)
قرآن مجید (سورہ التوبہ، آیت 60) میں زکوٰۃ کے پیسوں کو صرف کرنے کے لیے واضع طور پر 8 مستحقین کا ذکر کیا گیا ہے:
- فقراء (غرباء): وہ لوگ جن کے پاس زندگی گزارنے کے لیے مادی وسائل یا نقدی بالکل نہ ہو۔
- مساکین: وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ کچھ تو ہو لیکن وہ اپنی روزمرہ کی بنیادی ضروریات کو پوری طرح پورا کرنے سے قاصر ہوں۔
- عاملینِ زکوٰۃ: وہ افراد جو زکوٰۃ اکٹھا کرنے اور اس کا حساب کتاب رکھنے کے سرکاری یا شرعی نظام پر مامور ہوں۔
- تالیفِ قلب: وہ نو مسلم یا افراد جن کی دلجوئی اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے ضروری ہو۔
- غلاموں کی آزادی: کسی زمانے میں گردنوں کو آزاد کرانے کے لیے، اور جدید دور میں مظلوم قیدیوں کی قانونی مدد کے لیے۔
- قرض دار: وہ شخص جو شدید قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو اور اسے ادا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔
- فی سبیل اللہ: اللہ کے راستے میں جہاد، دین کی اشاعت یا فلاحی کاموں میں مصروف مسافر و طالبِ علم۔
- ابن السبيل (مسافر): وہ مسافر جو سفر کے دوران ضرورت مند ہو گیا ہو، خواہ وہ اپنے گھر میں کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو۔